ابنا: روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکو نے مذاکرات کے لیے آمادگی کے اعلان کو ایران کی جانب سے مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ اس کے بعد عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ریابکو نے ایران اور P5+1- روس، چین ، فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے علاوہ جرمنی سے مطالبہ کیا کہ نئے دور کے مذاکرات کے لیے تاریخ اور مقام پر جلد سے جلد اتفاق کریں۔روس کے نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ماسکو کو اس بات پر تشویش ہے کہ تہران نے اپنے جوہری توانائی کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے ابھی تک وفد تشکیل نہیں دیا ہے۔ریابکو نے کہا کہ یہ بات بھی باعث تشویش ہے کہ ابھی تک مذاکرات کرنے والے وفد کی تشکیل کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حقیقت کی طرف سے بھی فکر مند ہیں کہ ابھی تک چھ فریقی مذاکرات کی تاریخ اور مقام پر اتفاق ہونا باقی ہے۔واضح ہو کہ جمعہ کو ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ نے جوہری توانائی کے پروگرام پر مغرب کے خدشات دور کرنے کے لئے ملک کی آمادگی کے اعلان کا اعادہ کیا تھا۔علی اکبر صالحی نے کہا تھا کہ اگرچہ اپنے جوہری پروگرام کے متعلق مغربی دعوے کو ہم من گھڑت مانتے ہیں پھر بھی ہم بین الاقوامی قوانین اور کنونشنوں کی بنیاد پر مغرب کے خدشات دور کرنے کے لئے تیار ہیں۔جمعرات کو ایران کے صدر حسن روحانی نے P5 +1 کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے جوہری مذاکرات کی ذمہ داری باضابطہ طور پر وزارت خارجہ کو تفویض کر دی۔ اس سے پہلے جوہری مذاکرات کی ذمہ داری ملک کی اعلی قومی سکیورٹی کونسل پر تھی۔......./169
6 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 460282
پر امن مقاصد کے لیے اپنے جوہری توانائی کے پروگرام سے متعلق مغرب کے خدشات کو دور کرنے کی غرض سے عالمی طاقتوں کے گروپ 5+1 کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لئے ایران کی آمادگی کے اعلان کا روس نے خیر مقدم کیا ہے.